ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات میں بریج ٹوٹ کر گرنےسے 91 لوگوں کی موت؛ حادثے کے وقت تھے 300 لوگ بریج پر موجود؛ بریج ٹوٹنے سے لوگ ندی میں گرگئے

گجرات میں بریج ٹوٹ کر گرنےسے 91 لوگوں کی موت؛ حادثے کے وقت تھے 300 لوگ بریج پر موجود؛ بریج ٹوٹنے سے لوگ ندی میں گرگئے

Mon, 31 Oct 2022 00:17:57    S.O. News Service

احمد آباد 30/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)  گجرات کے موربی ضلع میں اتوار کی شام مچھّو ندی پر ایک کیبل پل گر گیا۔ جس کے نتیجے میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 91 کو پہنچ گئی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ  حادثے کے وقت پل پر 300 سے زائد افراد موجود تھے۔ 70 افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ادھر گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل واقعے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئے ہیں۔

پی ایم مودی نے افسوس کا کیا اظہار:
حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل سے بات کی اور ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ مرکزی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے اور ریاستی حکومت کی طرف سے چار لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی اور ریاستی حکومت کی جانب سے زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل موربی میں حادثے کے مقام پر پہنچ گئے۔ انہوں نے وہاں کے حالات کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ جس کے بعد وزیراعلیٰ نے اسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔ خیال رہے کہ یہ پل گزشتہ دو سال سے مرمت کے لیے بند تھا اور کام مکمل ہونے سے ایک روز قبل اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ دیوالی کی تعطیل اور اتوار ہونے کی وجہ سے خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد پل کو دیکھنے کے لیے آئی تھی۔ پل ٹوٹتے ہی اس پر موجود تمام لوگ مچھو ندی میں گر گئے۔ پل کے ساتھ دریا میں گرنے والے کچھ لوگوں کو اس کیبل سے تیرتے اور اوپر چڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔

ریاستی حکومت نے تشکیل دی انکوائری کمیٹی:
حکومت نے حادثے کی تحقیقات کے لیے پانچ سینئر افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں میٹروپولیٹن بلدیہ انتظامیہ کے کمشنر راجکمار بینیوال، چیف انجینئر کے ایم پٹیل، ایل ڈی انجینئرنگ کالج کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر گوپال ٹینک، روڈ اینڈ ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کے سکریٹری سندیپ واساوا اور سی آئی ڈی کرائم کے آئی جی سبھاش ترویدی شامل ہیں۔

امیت شاہ نے فوری علاج کی دیں ہدایات:
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے موربی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، 'موربی میں ہونے والے حادثے سے مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ میں نے اس معاملے میں ریاستی وزیر داخلہ ہرش سنگھوی اور گجرات کے دیگر حکام سے بات کی ہے۔ مقامی انتظامیہ پوری تیاری کے ساتھ امدادی کاموں میں مصروف ہے، این ڈی آر ایف بھی جلد ہی موقع پر پہنچ رہی ہے۔ انتظامیہ کو زخمیوں کو فوری علاج فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

این ڈی آر ایف کی دو ٹیمیں گاندھی نگر سے موربی بھیجی گئیں۔
راجکوٹ کے فائر بریگیڈ محکمہ کی سات ٹیموں کو بچاؤ کے لیے بلایا گیا ہے۔ ایس ڈی آر ایف ٹیم کے علاوہ کشتیوں سمیت ٹیموں کو بھی بچاؤ کام کے لیے بلایا گیا ہے۔ راجکوٹ شہر اور ضلع کی ایمبولینسوں کو بھی موربی کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ شہر سے ماہر تیراک بھی بلائے گئے ہیں۔ این ڈی آر ایف کی ٹیم کو بھی بلایا گیا ہے۔ اس دوران پتہ چلا ہے کہ گاندھی نگر سے این ڈی آر ایف کی دو ٹیمیں بھی بھیجی گئی ہیں۔

آٹھ سال قبل ٹوٹ گیاتھامچھو ڈیم:
مچھو ڈیم اس سے قبل 11 اگست 1979 کو ٹوٹ جانے سے تباہی مچ گئی تھی اور 15 منٹ میں پورا شہر پانی میں ڈوب گیاتھا۔ دو گھنٹے کے اندر اندر مکانات اور عمارتیں گرنا شروع ہو گئی تھیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں جانور اور لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈیم ٹوٹنے سے  ایک ہزار لوگ مارے گئے تھے۔


Share: